2 دسمبر 2013 - 20:30
صہیونی حکومت پر عائد جنسی تشدد کے الزامات سرد خانوں میں

غاصب صہیونی حکومت میں جنسی تشدد کی شکایتوں پر قانونی اقدامات نہیں کئے جاتے۔

ابنا: غاصب صہیونی حکومت میں جنسی تشدد کی شکایتوں پر قانونی اقدامات نہیں کئے جاتے۔ صہیونی اخبار ہارٹز کے مطابق صہیونی عدالتوں نے غاصب فلسطین میں ہجرت کر کے آنے والی خواتین پر گذشتہ پانچ سالوں کے دوران ہونے والے  جنسی تشدد کے تقریبا 68 فیصد مقدمات کو سرد خانوں میں ڈالا ہوا ہے۔ صہیونی اخبار کے مطابق غاصب صہیونی پولیس کو غیر ملکی خواتین، سیاحوں اور مہاجر خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کی  سن 2009 سے اکتوبر 2012 تک کے دوران 251 شکایتیں موصول ہوئی تھیں  جن میں سے 170 شکایتوں کو سرد خانے کی نذر کر دیا گیا۔ اسرائیل میں جنسی تشدد اور خواتین کے استحصال کے خلاف کام کرنے والی این جی او کے سربراہ اوریت سالیت زینو کے مطابق صہیونی عدالتوں میں جنسی تشدد کے خلاف شکایات کو اہمیت نہیں دی جاتی اور اس کو جرم تصور نہیں کیا جاتا۔  اوریت کے مطابق اسرائیل میں ہر تین میں سے ایک خاتون جنسی زیادتی کا شکار ہو جاتی ہے اور اس لحاظ سے مقامی عورتیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق سال 2012 میں تقریبا 3300 خواتین کو جنسی تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا  کہ جن میں سے پچاس فی صد کا لڑکیاں 12 سال سے کم عمر تھیں۔ مقبوضہ فلسطین میں گذشتہ چند سالوں کے درمیان اخلاقی فساد اور جنسی تشدد میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے اور ان واقعات میں غاصب صہیونی پولیس اور فوج کے اعلیٰ حکام بھی ملوث پائے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲